جب آئیں تیرے پاس منافق کہیں ہم قائل ہیں تو رسول ہے اللہ کا۔
اور اللہ جانتا ہے کہ تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ گواہی دیتا ہے یہ منافق جھوٹے ہیں۔

زیرنظر کتابچہ قادیانیوں اور دُوسرے کافروں کے درمیان فرق کو واضح کرنے کے موضوع پر مشتمل ہے۔ جو دراصل حضرت مولانامحمد ّیوسف لُدھیانوی مَدظلّہ کی ایک پُر مغز تقریر ہے جو آپ نے دبئی کی مسجد شیوخ میں یکم اکتوبر ۵۸۹۱؁ء کو بعد نماز عشاء فرمائی۔

کتاب کا نام: قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان فرق

تفصیل کتاب | فہرست مضامین

تعارف

حضرات! اس وقت مجھے بہت اختصار کے ساتھ چند باتیں گذارش کرنی ہیں۔ قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے درمیان کیافرق ہے؟ سب سے پہلے مجھے ایک سوال کا جواب دینا ہے۔ اور یہ سوال ہمارے بہت سے بھائیوں کے ذہن کا کانٹا بنا ہوا ہے۔ وہ سوال یہ ہے کہ مان لیا جائے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں لیکن دنیا میں غیر مسلم تو اور بھی بہت ہیں۔ یہودی ہیں، عیسائی ہیں، ہندوہیں، سکھ ہیں فلاں ہیں فلاں ہیں۔۔۔۔۔لیکن یہ کیا بات ہے کہ قادیانیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک مستقل تنظیم اور مستقل جماعت موجود ہے جس کا نام ”عالمی مجلس ختم نبوت“ ہے۔ جس نے یہ فرض اپنے ذمہ لے رکھا ہے کہ جہاں جہاں قادیانی پہنچے ہیں یہ بھی اللہ تعالیٰ کی نُصرت ومدد اور اپنے مسلمان بھائیوں کے تعاون کے ساتھ وہاں پہنچتے ہیں اور قادیانیوں کو بے نقاب کرتے ہیں، کسی اور کافر فرقہ کے مقابلے میں ایسی مستقل اور عالمی تنظیم موجود نہیں، تو آخر کیا بات ہے کہ امام العصر مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ سے لے کر شیخ الاسلام مولانا محمد یوسف بنوریؒ تک اور امیر شریعت سید عطااللہ شاہ بخاریؒ سے لیکر حضرت اقدس مولانامفتی محمودؒ تک سب اکابر نے قادیانی کفر کو اتنی اہمیت دی اور اس کے تعاقب کے لئے عالمی سطع کی تنظیم ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ قائم کی گئی۔۔۔۔ سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ قادیانیوں میں اور دوسرے غیر مسلموں میں کیا فرق ہے؟ اس کاجواب عرض کرنے سے پہلے ایک مثال پیش کرتا ہوں۔ آپ کو معلوم ہے کہ شریعت میں شراب ممنوع ہے، شراب کا پینا، اس کا بنانا، اس کابیچنا تینوں حرام ہیں اور یہ بھی معلوم ہے کہ شریعت میں خنزیر حرام اور نجس العین ہے، اس کا گوشت فروخت کرنا، لینا دینا، کھاناپینا،قطعی حرام ہے۔ یہ مسئلہ سب کو معلوم ہے۔ اب ایک آدمی وہ ہے جوشراب فروخت کرتا ہے یہ بھی مجرم ہے، اور ایک دوسراآدمی ہے جوشراب فروخت کرتا ہے اور مزید ستم یہ کرتاہے کہ شراب پر زمز م کا لیبل چمکاتا ہے یعنی شراب بیچتا ہے اس کو زمزم کہہ کر،مجرم دونوں ہیں لیکن ان دونوں مجرموں کے درمیان کیا فرق ہے؟ وہ آپ خوب سمجھتے ہیں، اسی طرح ایک آدمی خنزیر فروخت کرتا ہے مگر اس کوخنزیر کہہ کر فروخت کرتا ہے۔ وہ صاف صاف کہتا ہے کہ یہ خنزیر کا گوشت ہے جس کو لینا ہے لے جائے اور جو نہیں لینا چاہتا وہ نہ لے۔ یہ شخص بھی خنزیر بیچنے کا مجرم ہے، لیکن اس کے مقابلے میں ایک اور شخص ہے جو خنزیر اور کتے کا گوشت فروخت کرتا ہے بکری کا گوشت کہہ کر۔ مجرم وہ بھی ہے اور مجرم یہ بھی، مُجرم دونوں ہیں لیکن ان دونوں کے جُرم کی نوعیت میں زمین وآسمان کافرق ہے۔ ایک حرام کو بیچتا ہے اس حرام کے نام سے، جس کے نام سے بھی مسلمان کو گھن آتی       ہے۔ اور دوسرا اُسی حرام کو بیچتا ہے حلال کے نام سے، جس سے ہر شخص کو دھوکہ ہوسکتا ہے اور وہ اس کے ہاتھ سے خنزیر کا گوشت خرید کر اور اُسے حلال اور پاک سمجھ کر کھاسکتا ہے۔ پس جوفرق خنزیر کو خنزیر کہہ کر بیچنے والے کے درمیان اور خنزیر کو بکری یادنبہ کہہ کر بیچنے والے کے درمیان ہے۔ ٹھیک وہی فرق یہودیوں، عیسائیوں، ہندوؤں، سکھوں کے درمیان اور قادیانیوں کے درمیان ہے۔

کفر ہرحال میں کفر ہے۔ اسلام کی ضد ہے لیکن دنیا کے دوسرے کافر اپنے کُفر پر اسلام کا لیبل نہیں چپکاتے اور لوگوں کے سامنے اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے مگر قادیانی اپنے کفر پر اسلام کا لیبل چپکاتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ اسلام ہے۔

یہ میں نے عام فہم انداز میں بات سمجھائی ہے۔ اب علمی انداز میں اس بات کو سمجھاتا ہوں، یوں تو کُفر کی بہت سی قسمیں ہیں مگر کُفر کی تین قسمیں بالکل ظاہر ہیں۔ ایک کافر وہ ہے جو اعلانیہ کافر ہو، ایک کافر وہ ہے جواندر سے کافر ہو اور اوپر سے اپنے آپ کو مُسلمان کہے، اور ایک کافر وہ ہے جو اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرے۔ یہ پہلی قسم کے کافر کومطلق کافر کہتے ہیں۔ اس میں یہودی، عیسائی، ہندو وغیرہ سب داخل ہیں۔ مشرکین مکہ بھی اسی میں داخل تھے۔ یہ کھلے اور چٹے کافر ہیں۔ دوسری قسم والے کو منافق کہتے ہیں جو زبان سے ”لاالہ الااللہ“ کہتا ہے مگردل کے اندر کفر چھپاتا ہے۔ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ اذاجاء ک المنفقون قالوانشھد انک لرسول اللہ منافق جب آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں واللہ یعلم انک لرسولہُ تو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ جانتے ہیں کہ آپ واقعی اللہ کے رسول ہیں واللہ یشھد ان المنا فقین لکذبون اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ منافق قطعاً جھوٹے ہیں۔  منافقوں کا کُفر عام کافروں سے بڑھ کر ہے کیونکہ انہوں نے کفر اور جھوٹ کوجمع کیا، پھر یہ کہ انہوں نے کلمہ طیبہ لاالہ اللہ محمدرسول اللہ پڑھ کرکفر اور جھوٹ کا ارتکاب کیا۔ حضرت امام شافعیؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں ابراہیم بن علےّہ کا ہر چیز میں مخالف ہوں حتیٰ کہ اگر وہ ”لاالہ اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھے اس میں بھی اس کا مخالف ہوں۔ مطلب یہ کہ بعض لوگ جھوٹ میں اس حد تک بڑھ جاتے ہیں کہ وہ کلمہ طیبہ میں بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ اگر وہ ”لاالہ الااللہ محمدرسول اللہ“ پڑھیں تب بھی وہ جھوٹے ہیں اور ان

کا کلمہ بھی جھوٹ کے اظہار کا ایک ذریعہ ہے۔ ان منافقوں سے بڑھ کر تیسری قِسم والوں کاجرم ہے کہ وہ کافر ہیں مگر اپنے کفر کو اسلام کہتے ہیں۔ ہے خالص کفر، لیکن یہ اس کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں بلکہ قرآن کریم کی آیات سے، احادیث طیبہ سے، صحابہؓ کے ارشادات سے اور بزرگانِ دین کے اقوال سے توڑ موڑ کر اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو شریعت کی اصطلاح میں ”زندیق“ کہاجاتا ہے۔ پس یہ کل تین ہوئے۔ ایک کھلا کفر، دوسرامنافق، تیسرازندیق۔۔۔۔۔۔پس اوپر کی تقریر کا خلاصہ یہ ہوا کہ کافر وہ ہے جو ظاہروباطن سے خدا اور رسول کا منکر یا علانیہ کفر کا مرتکب ہو۔ منافق وہ ہے جو دل کے اندر کفر چھپائے ہوئے ہو اور زبان سے جھوٹ موٹ کلمہ پڑھتا ہو۔ زندیق وہ ہے جو اپنے کفر پر اسلام کا ملمع کرے اور اپنے کفر کو عین اسلام ثابت کرنے کی کوشش کرے۔

اَب ایک مسئلہ اور سمجھئے۔ ہماری کتابوں میں مسئلہ لکھا ہے اور چاروں فقہوں کا متفق علیہ مسئلہ ہے کہ جوشخص اسلام میں داخل ہوکر مرتد ہوجائے، نعوذ باللہ ثم نعوذباللہ اسلام سے پھر جائے، اس کے بارے میں حکم یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے، اس کے بعد شبہات دُور کرنے کی کوشش کی جائے، اسے سمجھایا جائے اگر بات اس کی سمجھ میں آجائے اور وہ دوبارہ اسلام میں داخل ہوجائے تو بہت اچھا ہے ورنہ اللہ تعالیٰ کی زمین کو اس کے وجود سے پاک کردیاجائے۔ یہ مسئلہ قتل مرتد کا مسئلہ کہلاتا ہے اور اس میں ہمارے ائمہ دین میں سے کسی کا اختلاف نہیں ہے۔ تمام مہذب ملکوں، حکومتوں اور مہذب قوانین میں باغی کی سزا موت ہے اور اسلام کا باغی وہ ہے جو اسلام سے مرتد ہوجائے۔ اس لئے اسلام میں مرتد کی سزا موت ہے لیکن اس میں بھی اسلام نے رعایت دی ہے۔دوسرے لوگ باغیوں کو کوئی رعایت نہیں دیتے،گرفتار ہونے کے بعد اگر اس پر بغاوت کا جرم ثابت ہوجائے تو سزائے موت نافذ کردیتے ہیں۔ وہ ہزار معافی مانگے، توبہ کرے اور قسمیں کھائے کہ آئندہ بغاوت کا جرم نہیں کروں گا۔ اس کی ایک نہیں سُنی جاتی اور اس کی معافی ناقابل قبول سمجھی جاتی ہے۔ اسلام میں بھی باغی یعنی مرتد کی سزا قتل ہے۔ مگر پھر بھی اتنی رعایت ہے کہ تین دن کی مہلت دی جاتی ہے۔اس کو تلقین کی جاتی ہے کہ توبہ کرلے۔ معافی مانگ لے تو سزا سے بچ جائے گا۔ افسوس ہے پھر بھی اسلام میں مرتد کی سزا پر اعتراض کیا جاتا ہے۔ اگر امریکہ کے صدر کا باغی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کرے اور اس کی سازش پکڑی جائے تو اس کی سزاموت ہے اور اس پر کسی کو اعتراض نہیں، روس کی حکومت کا تختہ الٹنے والا پکڑاجائے یاجنرل ضیاء الحق کی حکومت کے خلاف بغاوت کرنے والاپکڑاجائے تو اس کی سزاموت ہے اور اس پر دنیا کے کسی مہذب قانون اور کسی مہذب عدالت کوکوئی اعتراض نہیں لیکن تعجب ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے باغی پراگر سزائے موت جاری کی جائے تو لوگ

کہتے ہیں کہ یہ سزا نہیں ہونی چاہیے۔ اسلام تو باغی مرتد کوپھر بھی رعایت دیتا ہے کہ اسے تین دن کی مہلت دی جائے، اس کے شبہات دور کئے جائیں اور کوشش کی جائے کہ وہ دوبارہ مسلمان ہوجائے۔معافی مانگ لے تو کوئی بات نہیں اس کو معاف کردیاجائیگا۔ لیکن اگر تین دن کی مہلت اور کوشش کے بعد بھی وہ اپنے ارتداد پر اڑا رہے توبہ نہ کرے تو اللہ کی زمین کو اس کے وجود سے پاک کردیا جائے کیونکہ یہ ناسُور ہے۔ خُدا نخواستہ کسی کے ہاتھ میں ناسور ہوجائے تو ڈاکٹر اس کا ہاتھ کاٹ دیتے ہیں اگر انگلی میں ناسور ہوجائے تو انگلی کاٹ دیتے ہیں اور سب دنیا جانتی ہے کہ یہ ظلم نہیں بلکہ شفقت ہے کیونکہ اگر ناسور کو نہ کاٹا گیا تو اس کا زہر پورے بدن میں سرایت کرجائے گا جس سے موت یقینی ہے، پس جس طرح کہتے ہیں کہ یہ سزانہیں ہونی چاہیے۔ اسلام تو باغی مرتد کوپھر بھی رعایت دیتا ہے کہ اسے تین دن کی مہلت دی جائے، اس کے شبہات دور کئے جائیں اور کوشش کی جائے کہ وہ دوبارہ مسلمان ہوجائے۔معافی مانگ لے تو کوئی بات نہیں اس کو معاف کردیاجائیگا۔ لیکن اگر تین دن کی مہلت اور کوشش کے بعد بھی وہ اپنے ارتداد پر اڑا رہے توبہ نہ کرے تو اللہ کی زمین کو اس کے وجود سے پاک کردیا جائے کیونکہ یہ ناسُور ہے۔ خُدا نخواستہ کسی کے ہاتھ میں ناسور ہوجائے تو ڈاکٹر اس کا ہاتھ کاٹ دیتے ہیں اگر انگلی میں ناسور ہوجائے تو انگلی کاٹ دیتے ہیں اور سب دنیا جانتی ہے کہ یہ ظلم نہیں بلکہ شفقت ہے کیونکہ اگر ناسور کو نہ کاٹا گیا تو اس کا زہر پورے بدن میں سرایت کرجائے گا جس سے موت یقینی ہے، پس جس طرح پورے بدن کو ناسور کے زہر سے بچانے کے لئے ناسور کو کاٹ دینا ضروری ہے اور یہی دانائی اور عقلمندی ہے اسی طرح ارتداد بھی ملّت اسلامیہ کے لیے ناسور ہے۔ اگر مرتد کو توبہ کی تلقین کی گئی۔ اس کے باوجود اس نے اسلام میں دوبارہ آنے کوپسند نہیں کیا تو اس کا وجود ختم کردینا ضروری ہے ورنہ اس کا زہر رفتہ رفتہ ملت اسلامیہ کے پورے بدن میں سرایت کرجائے گا۔ الغرض مرتد کا حکم ائمہ اربعہ کے نزدیک اور پوری امت کے علماء کے اور فقہاء کے نزدیک یہی ہے جو میں عرض کرچکا ہوں اور یہی عقل ودانش کا تقاضا ہے اور اسی میں امت کی سلامتی ہے۔

زندیق کا حکم

اور زندیق جو اپنے کفر کو اسلام ثابت کرنے پر تلا ہوا ہو۔ اس کا معاملہ مرتد سے بھی زیادہ سنگین ہے۔ امام شافعیؒ اور مشہور روایت میں امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کا حکم بھی مرتد کا ہے۔ یعنی اس کو موقعہ دیا جائے کہ وہ توبہ کرلے، اگر تین دن میں اس نے توبہ کرلی تو اس کوچھوڑدیاجائے گا، اور اگر اس نے توبہ نہ کی تو وہ بھی واجب القتل ہے۔ پس ان حضرات کے نزدیک تو مرتد اور زندیق دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ لیکن امام مالکؒ فرماتے ہیں ”لااقبل توبۃ الزندیق“ میں زندیق کی توبہ نہیں قبول کروں گا۔ مطلب یہ کہ کسی شخص کے بارے میں اگرپتہ چل جائے کہ یہ زندیق ہے۔ اپنے کفر کو اسلام ثابت کرتا ہے اور پکڑا جائے۔ پھر کہے جی! میں توبہ کرتا ہوں، آئندہ میں ایسی حرکت نہیں کروں گا تو اس کی توبہ کا قبول کرنا نہ کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ ہم تو اس قانونِ سزانافذ کریں گے۔ اس کے وجود کو باقی نہیں رکھیں گے، جیسے زنا کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی۔ بہرحال اس پر سزا جاری کی جاتی ہے چاہے آدمی توبہ ہی کرلے، یا جیسا کہ چوری کرنے پر ہاتھ کاٹنے کی سزا ملتی ہے اور یہ سزا توبہ سے معاف نہیں ہوتی۔ کوئی شخص چوری کرنے اور پکڑے جانے کے بعد توبہ کرلے تب بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اسی   طرح امام مالکؒ فرماتے ہیں۔ ”لااقبل توبۃ الزندیق“ کہ میں زندیق کی توبہ قبول نہیں کرتا۔ یعنی زندیق کی سزا توبہ سے معاف نہیں ہوگی اس پر سزائے موت لازماً جاری کی جائے گی خواہ ہزار بار توبہ کرلے اور یہی ایک روایت ہمارے امام ابوحنیفہؒ سے اور امام احمد بن حنبلؒ سے بھی منقول ہے۔ لیکن درمختار، شامی اورفقہ کی دوسری کتابوں میں ہے کہ اگر کوئی زندیق ازخود آکر توبہ کرلے۔ مثلاً کسی کو پتہ نہیں تھا کہ یہ زندیق ہے۔ اسی نے خود ہی اپنے زندقہ ہونے کا اظہار کیا اور اس نے توبہ بھی کی تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ اسی طرح اگر یہ تو معلوم تھا کہ یہ زندیق ہے مگر اس کو گرفتار نہیں کیا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کو ہدایت دے دی اور وہ اپنے آپ آکر تائب ہوگیا اور اپنے زندقہ سے توبہ کرلی۔ جی! میں مرزائیت سے توبہ کرتا ہوں تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی اور اس پر سزائے ارتداد جاری نہیں کی جائے گی۔ لیکن اگر گرفتاری کے بعد توبہ کرتا ہے تو توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ چاہے سو دفعہ توبہ کرے۔

مُرتد اور زندیق میں فرق

تو مرتد کے لئے توبہ کی تلقین کا حکم ہے اگر وہ توبہ کرلے تو سزا سے بچ جائے گا لیکن زندیق کے بارے میں امام مالکؒ، امام ابو حنیفہؒ اور ایک روایت میں احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ قبول نہیں کیونکہ اس نے زندقہ کے جرم کا ارتکاب کیا ہے یعنی کفر کو اسلام ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ کتے کا گوشت بکری کے نام سے فروخت کیا ہے۔ شراب پر زمزم کا لیبل چپکایا ہے، یہ جرم ناقابل معافی ہے اس پر قتل کی سزا ضرور جاری ہوگی۔ تو یہ بات۔۔۔۔۔۔ اچھی طرح سمجھ لیجئے کہ مرزائی زندیق ہیں کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کافر ہیں۔ قطعاً کافر ہیں۔ جس طرح کلمہ طیبہ ”لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ میں شک نہیں کہ یہ ہمارا کلمہ ہے اور جو اس میں شک کرے وہ مسلمان نہیں۔ اسی طرح مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے کافر ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں، کوئی شک نہیں، اور جو ان کے کفر میں شک کرے وہ بھی مسلمان نہیں۔ اس وقت مجھے یہ نہیں بتانا ہے کہ وہ کیوں کافر ہیں۔ ان کے کافر ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ مجھے تو یہ بتانا ہے کہ وہ کافر اور پکے کافر ہونے کے باوجود اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ جی! ہم تو ”جماعت احمدیہ“ ہیں، ہم تو”مسلمان“ ہیں، لندن میں اپنی بستی کانام رکھا ہے، ”اسلام آباد“ اور کہتے ہیں کہ جی ہم تو اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں۔ جب بھی کسی مسلمان سے بات کرتے ہیں تو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ جی! مولوی تو ویسے ہی باتیں کرتے ہیں، دیکھو ہم نماز پڑھتے ہیں، روزے رکھتے ہیں، یہ کرتے ہیں، وہ کرتے ہیں اور حضورؐ کو خاتم النبیین سمجھتے ہیں۔ جی! ہمارے تو شرائط بیعت میں لکھا ہوا ہے کہ میں صدق دل سے حضورؐ کو خاتم النبیین مانتا ہوں۔

مِرزائی کیوں زندیق ہیں؟

تو مرزائی زندیق ہیں کیونکہ وہ اپنے کفر پر اسلام کو ڈھالتے ہیں۔ وہ شراب اور پیشاب پر نعوذ باللہ زمزم کا لیبل چپکاتے ہیں۔ وہ کتے کاگوشت حلال ذبیحہ کے نام فروخت کرتے ہیں۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں اور یہ مسلمانوں کا وہ عقیدہ ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ حجتہ الوداع کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا۔ ”ایھا الناس انا اٰخر الانبیاء وانتم اخزالامم“ لوگو! میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔“ دوسو سے زیادہ احادیث ایسی ہیں جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف عنوانات سے، مختلف طریقوں سے، مختلف اسلوبوں سے، مختلف انداز سے ختم نبّوت کا مسئلہ سمجھایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں، حضورؐ کے بعد کسی کونبوت نہیں دی جائے گی۔

آخری نبی کا مفہوم
یہ مطلب نہیں، کہ پہلے کا کوئی نبی زندہ نہیں اگر بالفرض پہلے کے سارے نبی آجائیں حضورؐ کے زمانے میں۔ اور آکر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم بن جائیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پھر بھی آخری نبی ہیں کیونکہ آپؐ کے بعد کسی کو نبوت نہیں دی گئی، انبیاء کرام کے ناموں کی جو فہرست اللہ تعالیٰ کے علم میں تھی اس میں آخری نام نامی آپؐ کا تھا۔ آپؐ کی تشریف آوری سے انبیاء کرام کی وہ فہرست مکمل ہوگئی۔
آخری نبی اور آخری اولاد کا مفہوم
جس بچے کو ماں باپ کی آخری اولاد کہاجائے اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کے ہاں سب اولاد کے بعد پیدا ہوا۔ اس کے بعد کوئی بچہ اُن ماں باپ کے ہاں پیدانہیں ہوا۔ آخری اولاد کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ سب اولاد کے بعد تک زندہ بھی رہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پیدا بعد میں ہوتا ہے لیکن انتقال اس کا پہلے ہوجاتا ہے۔ اس کے باوجود آخری اولاد کہلاتا ہے۔ آپ نے یہ کہتے ہوئے سنا ہوگا کہ میری آخری اولاد وہ بچہ تھا جو انتقال کرگیا۔
آخری نبی یا خاتم النبیینؐ کے معنی یہ ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کسی شخص کے سرپرتاج نبوت نہیں رکھاجائے گا۔ اب کوئی شخص نبوت کی مسند پر قدم نہیں رکھے گا جو پہلے نبی بنا دئیے گئے ان پر تو ہمارا پہلے سے ایمان ہے۔ وہ ہمارے ایمان میں پہلے سے داخل ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی شخص خلعت نبوت سے سرفراز نہیں ہوگا اور نہ امت کو ایسے نبی پر ایمان لانا ہوگا۔
خاتم النبیین میں قادیانیوں کی تحریف

لیکن قادیانی مرزائی کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کا یہ مطلب نہیں کہ آپ آخری نبی ہیں، نہ یہ کہ آپ کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے، بلکہ یہ مطلب ہے کہ آئندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر سے نبی بنا کریں گے۔ ٹھپا لگتا ہے اور نبی بنتا ہے (حماقت تودیکھئے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ٹھپے سے چودہ سو سال کی امت میں نبی بنا بھی تو صرف ایک، اور وہ بھی بھینگا اور ٹنڈا۔ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی مُہر نے صرف ایک نبی بنایا۔ (اور وہ بھی صرف قادیانی اعور دجال نعوذباللہ)

الغرض خاتم النبیین کے معنی یہ تھے کہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں۔ آپ کی آمد سے نبیوں کی آمد بند ہوگئی۔ ان پر مہر لگ گئی، اب کوئی نبی نہیں بنے گا۔ لفافہ بند کرکے لفافے پر مہر لگادیتے ہیں۔ جس کو ”سیل کرنا“ کہتے ہیں۔ ختم کے معنی ”سیل کردینا“ خاتم النبیین کے معنی یہ ہیں کہ آپ کی آمد سے نبیوں کی فہرست سربمہر کردی گئی۔ اب نہ تو اس فہرست سے کسی کو نکالا جاسکتا ہے اور نہ اس میں کسی اور کا نام داخل کیا جاسکتا ہے، لیکن مرزائیوں نے اس میں یہ تحریف کی کہ خاتم النبیین کے معنی ہیں نبوت کے پروانوں کی تصدیق کرنے والا۔ یہ کہتے ہیں کہ وہ جو کاغذ پر دستخط کرکے محکمے والے مہر لگادیاکرتے ہیں کہ کاغذ کی تصدیق ہوگئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم بھی انہی معنوں میں خاتم النبیین ہیں۔ یعنی نبیوں کے پروانوں پر مہر لگا لگاکر نبی بناتے ہیں۔ پہلے نبوت اللہ تعالےٰ خود دیاکرتے تھے لیکن اب یہ محکمہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے سپرد کردیا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم مُہریں لگائیں  اور  نبی بنائیں۔

یہ ہے زندقہ، کہ نام اسلام کا لیتے ہیں، لیکن اپنے کفریہ عقائد پر قرآن کریم کی آیات کو ڈھالتے ہیں۔ اسی طرح کے ان کے بہت سے کفریہ عقائد ہیں جن کویہ اسلام کے نام سے پیش کرتے ہیں۔ کہنا یہ ہے کہ یہ مرزائی زندیق ہیں کہ عقائد ایسے رکھتے ہیں جو اسلام کی روسے خالص کفرہیں۔ لیکن یہ اپنے کفریہ عقائد کو اسلام کانام دیتے ہیں اور قرآن وحدیث کو اپنے کفریہ عقائد پر ڈھالنے کے لئے ان کی تحریف کرتے ہیں۔ یہ خنزیر اور کتے کا گوشت بیچتے ہیں مگر حلال ذبیحہ کہہ کر‘ اور شراب بیچتے ہیں مگر زمزم کا لیبل چپکاکر۔اگر یہ لوگ اپنے دین و مذہب کو اسلام کا نام نہ دیتے بلکہ صاف صاف کہہ دیتے کہ ہمارا اسلام سے کوئی تعلق نہیں تو واللہ العظیم ہمیں ان کے بارے میں اس قدر متفکر ہونے کی ضرورت نہ ہوتی۔

بہائی مذہب
دنیا میں بہائی ٹولہ بھی موجود ہے۔ وہ ایران کے بہااللہ کو رسول مانتا ہے۔ وہ دنیا میں موجود ہے۔ ہم ان کو بھی کافر سمجھتے ہیں لیکن انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اسلام کے ساتھ ہمارا کوئی واسطہ نہیں‘ ہمارا دین‘ اسلام سے الگ ہے۔ سو بات ختم ہوگئی۔ جھگڑا ختم ہوگیا۔لیکن قادیانی اپنے تمام کفریات کو اسلام کے نام سے پیش کرکے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اس لئے یہدنیا میں بہائی ٹولہ بھی موجود ہے۔ وہ ایران کے بہااللہ کو رسول مانتا ہے۔ وہ دنیا میں موجود ہے۔ ہم ان کو بھی کافر سمجھتے ہیں لیکن انہوں نے صاف صاف کہہ دیا کہ اسلام کے ساتھ ہمارا کوئی واسطہ نہیں‘ ہمارا دین‘ اسلام سے الگ ہے۔ سو بات ختم ہوگئی۔ جھگڑا ختم ہوگیا۔لیکن قادیانی اپنے تمام کفریات کو اسلام کے نام سے پیش کرکے مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اس لئے یہ صرف کافر اور غیر مسلم ہی نہیں بلکہ مرتد اور زندیق ہیں۔ مسلمانوں کی غیر مسلموں کے ساتھ صلح ہو سکتی ہے مگر کسی مرتد اور زندیق سے کبھی صلح نہیں ہوسکتی۔
قادیانیوں کو مسلمان کہلانے کا کیا حق ہے

قادیانیوں کو یہ حق آخر کس نے دیا ہے کہ وہ غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول سمجھیں اور پھر اسلام کا دعویٰ بھی کریں؟ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمہ کو منسوخ کرکے اس کی جگہ مرزا غلام احمد قادیانی کو محمد رسول اللہ کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کریں۔ اس کا کلمہ جاری کرائیں۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی (قرآن کریم) کے بجائے مرزا کی وحی کو واجب الاتباع اور مدار نجات قرار دیں اور پھر ڈھٹائی کے ساتھ یہ بھی کہیں کہ ہم مسلمان ہیں اور غیر احمدی کافر ہیں۔ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے:۔

  ”ہر ایک ایسا شخص جو موسیٰ کو تو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمدؐ کو نہیں مانتا یا محمدؐ کو مانتا ہے پر مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔“                    (کلمہئ الفصل  نمبر۰۱۱)

قادیانیوں کا کلمہ

قادیانی دعوے کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دودفعہ دنیا میں آنا مقدر تھا۔ پہلی دفعہ آپ مکہ مکرمہ میں آئے اور آپ کی یہ بعثت تیرہ سو سال تک رہی۔ چودھویں صدی کے شروع میں آپ مرزا قادیانی کے روپ میں قادیاں میں دوبارہ مبعوث  ہوئے۔ اس لئے ان کے نزدیک غلام احمد قادیانی خود محمد رسول اللہ ہے اور کلمہ طیبہ میں محمد رسول اللہ سے مرزا مراد لیتے ہیں۔  چنانچہ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے۔

  ”مسیح موعود (مرزا قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہیں جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں۔ ہاں! اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی۔“    (کلمہئ الفصل  نمبر۸۵۱)

گویا ”لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے معنی ان کے نزدیک ہیں۔ ”لاالہ الا اللہ مرزا رسول اللہ“ (نعوذ باللہ) جو دوبارہ قادیان میں آیا ہے۔ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے۔ ہمارے نزدیک مرزا خود محمد رسول اللہ ہے اور ہم مرزا کو محمد رسول اللہ مان کر اس کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ اس لئے ہمیں نیا کلمہ بنانے کی ضرورت نہیں۔

قادیانی‘ مُحمد رسُول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو کُفر کہتے ہیں 

کہنا یہ ہے کہ انہوں نے نبی الگ بنایا‘ قرآن الگ بنایا (جس کانام ”تذکرہ“ ہے اور جس کی حیثیت مرزائیوں کے نزدیک وہی ہے جومسلمانوں کے نزدیک تورات، زبور، انجیل اور قرآن کریم کی ہے) اُمّت الگ بنائی‘ شریعت الگ بنائی، کلمہ الگ بنایا۔ وہ اپنے دین کا نام اسلام رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور ہمارے دین کا نام کفر رکھتے ہیں۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین قادیانیوں کے نزدیک (نعوذ باللہ) کفر ہوگیا اورمرزا کا دین ان کے نزدیک اسلام ہے۔ ہم قادیانیوں سے پوچھتے ہیں کہ تم ہمیں جو کافر کہتے ہو‘ ہم نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کس بات کا انکار کیا ہے؟ کیا مرزا کے آنے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین کفر بن گیا؟ مرزا سے پہلے تو محمد رسول اللہ علیہ وسلم کا دین اسلام کہلاتا تھا اور اس کو ماننے والے مسلمان کہلاتے تھے لیکن مرزا آیا اور اس کی سبز قدمی سے محمد رسول اللہ کا دین کفر بن گیا اور اس کو ماننے والے کافر کہلائے۔ (العیازباللہ)

اس کے بڑھ کر غضب کیا ہوسکتا ہے؟ مرزا کے دوجرم ہوئے۔ ایک یہ کہ نبوت کا دعویٰ کرکے ایک نیا دین ایجاد کیا اور اس کا نام اسلام رکھا۔ دوسراجرم یہ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کوکفر کہا۔ مرزا کے دین کے ماننے والے مسلمان اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ماننے والے ان کے نزدیک کافر۔۔۔۔۔۔مجھے بتائیے کہ کیا کسی یہودی نے، کسی عیسائی نے، کسی ہندوسکھ نے، کسی چوہڑے چمار نے، کسی پارسی مجوسی نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہے؟ اب تو آپ کی سمجھ میں آگیا ہوگا کہ مرزا قادیانی اور مرزایوں کا کفر کس قدر بدترین ہے۔ اور یہ دنیا بھر کے کافروں سے بدتر کافر ہیں۔

مسلمانوں کا قادیانیوں سے رعایتی سلوک

یہ زندیق ہیں جو اسلام کو کفر اور کفر کو اسلام کہتے ہیں اور شریعت کے مطابق زندیق واجب القتل ہوتا ہے۔ یہ قادیانیوں

کے ساتھ ہماری رعایت ہے کہ ان کو زندہ رہنے کا حق دیا ہے۔ یہ دنیا میں شور مچاتے ہیں کہ پاکستان میں ہم پر ظلم ہورہا ہے۔ یہ حکومت پاکستان کی شرافت سے ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ حکومت نے ان پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ ان کو صرف یہ کہا کہ تم محمد

رسول اللہ کے دین کو کفر اور اپنے دین کو اسلام نہ کہو۔ قادیانیوں پر اس سے زیادہ اور کوئی پابندی نہیں لگائی۔ شریعت کے فتویٰ سے تم واجب القتل ہو۔ حکومت پاکستان نے تمہیں رعایت دے رکھی ہے۔ تم پاکستان میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو۔ اس کے باوجود کبھی اقوام متحدہ میں، کبھی یہودیوں اور عیسائیوں اور نہ معلوم کن کن لوگوں کی عدالتوں میں تم فریاد کرتے ہو کہ حکومت پاکستان نے ہمارے حقوق غصب کرلئے ہیں، حکومت پاکستان نے تمہارے کیا حقوق غصب کرلئے؟ ہم نے تمہارا کیا قصور کیا ہے؟ پاکستان کی حکومت نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ تم سے صرف یہ کہاگیا ہے کہ کلمہ طیبہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ ہمارا ہے۔ ہم کیسے اجازت دیں کہ تم شراب پر زمزم کا لیبل چپکا کر بیچتے رہو؟ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ تم کتے اور خنزیر کا گوشت حلال ذبیحہ کے نام سے فروخت کرتے رہو؟ ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ تم مرزا کانے کو محمد رسول اللہ کی حیثیت سے دنیا کے سامنے پیش کرو؟ ہم کیسے اجازت دے سکتے ہیں کہ تم اپنے کفر اور زندقہ کو اسلام کے نام سے پھیلاؤ؟ تمہارے منہ سے   ”لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ کے منافقانہ الفاظ اداکرنا ہمارے کلمہ طیبہ کی توہین ہے۔ ہمارے نبی کی توہین ہے، ہمارے اسلام کی توہین ہے۔ ہم تمہیں اس توہین کی اجازت کس طرح دیں؟ تم کلمہ پڑھ کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہو اور ہم اس کے جواب میں وہی کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے بارے میں فرمائی۔

والله یشهد ان المنافقین لکاذبون

اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔

خلاصہئ گفتگُو

ب تک میں ایک ہی سوال کا جواب دے سکا ہوں کہ قادیانیوں میں اور دوسرے غیرمسلموں میں فرق کیا ہے؟ جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ دوسرے کافر تو سادے کافر ہیں اور قادیانی صرف کافر اور غیر مسلم نہیں بلکہ وہ اپنے کفر کواسلام کہنے اور اسلام کو
کفر قرار دینے کے بھی مجرم ہیں لہذا یہ زندیق ہیں اور زندیق مرتد کی طرح واجب القتل ہوتا ہے۔

مرتد کی نسل کا حکم
اب میں ایک اور مسئلہ کا ذکر کرتا ہوں۔ اصول یہ ہے کہ مرتد کو تین دن کی مہلت کے بعد قتل کردیاجاتا ہے لیکن مرتدوں کی ایک جماعت بن جائے، ایک پارٹی بن جائے اور اسلامی حکومت ان پر قابو نہ پاسکے، اس لئے وہ قتل نہ کئے جاسکیں اور رفتہ رفتہ اصل مرتد مر کھپ جائیں اور ان مرتدوں کی نسل جاری ہوجائے۔ مثال کے طور پر کسی بستی کے لوگوں نے متفقہ طور پر عیسائیت قبول کرلی تھی (نعوذ باللہ) عیسائی بن گئے تھے۔ اب کسی نے ان کو پکڑکر قتل نہیں کیا یا وہ پکڑ میں نہیں آسکے۔ اس کے بعد یہ لوگ جو خود عیسائی بنے تھے مرکر ختم ہوگئے۔ پیچھے ان کی نسل رہ گئی جو خود مسلمان سے عیسائی نہیں ہوئی تھی بلکہ انہوں نے اپنے آباؤ اجداد سے عیسائی مذہب لیا تھا۔ تو مرتد کی صلبی اولاد تو تبعاً مرتد ہے‘ اصالتاً مرتد نہیں، اس لئے اس کو حبس و ضرب کے ساتھ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا۔ مگر قتل نہیں کیا جائے گا‘ اور مرتدوں کی اولاد کی اولاد نہ اصالتاً مرتد ہے اور نہ تبعاً بلکہ وہ اصلی کافر کہلائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ان پرسزائے ارتداد جاری نہیں ہوگی۔ کیونکہ اولاد کی اولاد مرتد نہیں وہ سادہ کافر ہے۔ اس لئے اس  کا حکم مرتد کا نہیں۔ الغرض مرتد کی پیڑھی بدل جائے تو دوسری پیڑھی مرتد نہیں کہلاتی۔
زندیق مرزائی کی نسل کا حکم

لیکن قادیانیوں کی سو نسلیں بھی بدل جائیں تو ان کا حکم زندیق اور مرتد کا رہے گا۔ سادہ کافر کو حکم نہیں ہوگا۔ کیوں؟ اس لئے کہ ان کا جو جرم ہے یعنی کفر کو اسلام اور اسلام کو کفر کہنا، یہ جرم ان کی آئندہ نسلوں میں بھی پایا جاتا ہے۔

الغرض قادیانی جتنے بھی ہیں خواہ وہ اسلام کو چھوڑ کر مرتد ہوئے ہوں، قادیانی زندیق بنے ہوں یا وہ ان کے بقول ”پیدائشی احمدی“ ہوں‘ قادیانیوں کے گھر میں پیدا ہوئے ہوں اور کفر ان کو ورثے میں ملا ہو‘ ان سب کا ایک ہی حکم ہے یعنی مرتد اور زندیق کا۔۔۔۔کیونکہ ان کا جرم صرف یہ نہیں کہ وہ اسلام کو چھوڑ کر کافر بنے ہیں بلکہ ان کا جرم یہ ہے کہ دین اسلام کو کفر کہتے ہیں۔ اور اپنے دین کفر کو اسلام کا نام دیتے ہیں اور یہ جرم ہر قادیانی میں پایا جاتا ہے خواہ وہ اسلام کو چھوڑ کر  قادیانی بنا ہو یا پیدائشی

قادیانی ہو۔۔ اس مسئلہ کو خوب سمجھ لیجئے۔ بہت سے لوگوں کو قادیانیوں کی صحیح حقیقت معلوم نہیں۔

قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کو غیرت سے کام لینا چاہیے

قادیانیوں کے جرم کی پوری وضاحت میں نے آپ حضرات کے سامنے کردی۔ اب مجھے آپ حضرات سے ایک بات کہنی ہے۔ پہلے ایک مثال دوں گا۔ مثال کچھ بھدی سی ہے مگر سمجھانے کے لئے مثال سے کام لیناپڑتا ہے۔

ایک باپ کے دس بیٹے تھے جو اُس کے گھر پیدا ہوئے وہ ساری عمر اُن کو اپنا بیٹا کہتا رہا۔ باپ مرگیا۔ اس کے انتقال کے بعد ایک غیر معروف شخص اٹھا اور یہ دعویٰ کیا کہ میں مرحوم کا صحیح بیٹا ہوں۔ یہ دسوں کے دس لڑکے اس کی ناجائز اولاد ہیں۔

میں یہ مثال فرض کررہا ہوں اور اس سلسلے میں آپ سے دو باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ دنیا کا کوئی صحیح الدماغ

آدمی اس شخص کے دعوے کو قبول کرے گا۔ یہ غیر معروف مدعی جس نے مرحوم کی زندگی میں کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں فلاں شخص کا بیٹا ہوں۔ نہ مرحوم نے اپنی زندگی میں کبھی یہ دعویٰ کیا کہ یہ میرابیٹا ہے کیا دنیا کی کوئی عدالت اس شخص کے دعویٰ کو  سن کریہ فیصلہ دے گی کہ یہ شخص مرحوم کا حقیقی بیٹا ہے اور باقی دس لڑکے مرحوم کے بیٹے نہیں۔

دوسری بات مجھے آپ سے یہ پوچھنی ہے کہ یہ شخص جو باپ کے دس بیٹوں کو حرامزادہ کہتا ہے وہ ان کو ان کے باپ کی جائز اولاد تسلیم نہیں کرتا، ان دس لڑکوں کا ردعمل اُس شخص کے بارے میں کیا ہوگا؟

ان دونوں باتوں کو ذہن میں رکھ کر سنیے! ہم بحمداللہ! حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں۔ آپؐ کے لائے ہوئے پورے دین کو مانتے ہیں۔ الحمدللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ روحانی اولاد ہیں یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ  قرآن کریم کا ارشاد ہے۔

النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ

نبی ﷺ مومنین کے ساتھ تو ان کے نفس (اور ذات) سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں

یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امتی کو اپنی ذات سے اتنا تعلق نہیں جتنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر امتی کی

ذات سے تعلق ہے۔

وازوجہ امھاتھم۔ ”اورآپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں“۔۔۔۔۔اور قرأت میں ہے۔ وھوابٌ لھم کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے باپ ہیں، ظاہر بات ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہماری مائیں بنیں، چنانچہ ہم سب ان کو ”امہات المومنین“ کہتے ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ، اُم المومنین خدیجۃ الکبریٰ، ام المومنین

 میمونہ، ام سلمہ رضی اللہ عنہن، ہم تمام ازواج مطہرات کے ساتھ ام المومنین کہتے ہیں۔ تو جب یہ ہماری مائیں ہوئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے روحانی باپ ہوئے۔۔۔۔۔۔ اولاد میں کوئی ماں باپ کا زیادہ فرمانبردار ہوتا ہے کوئی کم، کوئی زیادہ خدمت گذار ہوتا ہے کوئی کم، کوئی زیادہ ہنرمند ہوتا ہے کوئی کم، کوئی زیادہ سمجھدار اور عقلمند ہوتا ہے کوئی کم۔۔۔۔۔اولاد ساری ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ان میں فرق ضرور ہوتا ہے لیکن ساری کی ساری باپ ہی کی اولاد کہلاتی ہے۔تیرہ صدیوں کے مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد تھی۔ چودھویں صدی کے شروع میں مرزا غلام احمد قادیانی اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ حضورؐ کی روحانی اولاد صرف میں ہوں۔ باقی سارے مسلمان کافر ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری امت کے مسلمان حضورؐ کی روحانی اولاد نہیں بلکہ نعوذ باللہ ناجائز اولاد ہیں۔ حرامزادے ہیں۔ مجھے معاف کیجئے! میں مرزا غلام احمد قادیانی کے صاف صاف الفاظ نقل کررہا ہوں۔

ہم پوری دنیا کی مہذب عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرکے کہتے ہیں کہ اگر کسی مجہول النسب کا یہ دعویٰ لائق سماعت نہیں کہ میں مرحوم کا حقیقی بیٹا ہوں۔ باقی دس کے دس بیٹے ناجائز اولاد ہیں۔ تو غلام احمد کا یہ ہذیانی دعویٰ کیونکر لائق سماعت ہے کہ وہ (مجہول النسب ہونے کے باوجود) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہے، اورآنحضرتؐ کی ساری کی ساری اُمت کافر ہے۔ ناجائز اولاد ہے۔۔۔۔۔آخر کس جرم میں پوری امت کا رشتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹ کر ان کو کافر اور ناجائز اولاد قراردیا گیا۔۔۔۔۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دین کو الف سے لیکر یا تک مانتے ہیں۔ ہم نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ہم نے کوئی عقیدہ نہیں بدلا۔ عقیدے غلام احمد نے بدلے اور کافر اورحرامزادے پوری امت کو کہا۔

ایک قادیانی سے میری گفتگو ہوئی میں نے اس سے کہا کہ تیرہ صدیوں سے مسلمان چلے آتے تھے۔ مرزا غلام احمد کے دعوے پر ہمارا تمہارا اختلاف ہوا اور چودھویں صدی سے یہ اختلاف شروع ہوا۔ اب میں آپ سے انصاف کی بات کہتا ہوں کہ اگر ہمارے عقیدے تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کے مطابق ہیں تو تم ان کو مان لو اور غلام احمد کو چھوڑ دو۔ اور تمہارے عقیدے تیرہ

صدیوں کے مسلمانوں کے مطابق ہیں تو ہم تم کو سچا مان لیں گے۔ لیجئے ہمارا تمہارا اختلاف فوراً ختم ہوسکتا ہے۔ یہ انصاف کی بات ہے اور دونوں فریقوں کے لئے برابر کی بات ہے۔ وہ قادیانی سیالکوٹ کا پنجابی تھا۔میری بات سن کر کہنے لگا کہ ”جی سچی بات ایہہ ہے کہ اسی تاں مرزا صاحب تو ں سوا باقی ساریاں نوں جھوٹے سمجھنے آں“ یعنی ”سچی بات تو یہ ہے کہ ہم تو مرزاصاحب کے سوا باقی سب کو جھوٹا سمجھتے ہیں“ اب آپ سمجھ گئے ہونگے‘ مرزا یہ جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ صرف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہوں باقی سب مسلمان ناجائز اولاد ہیں اور یہ شخص اپنے آپ کو روحانی بیٹا کہہ کر پوری دنیا کو گمراہ کررہا ہے۔

میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر ان دس بیٹوں کا حرامزادہ ہونا کوئی شخص تسلیم نہیں کرے گا جو اس کے گھر پیدا ہوئے۔ اس کی بیوی سے پیدا ہوئے اور ایک غیر معروف اور مجہول النسب آدمی‘ جس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کسی میراثی کی اولاد ہے‘ اگر وہ آکر ایسا دعویٰ کرے گا تو کوئی اُس کے دعوے کونہیں سُنے گا۔ میں کہتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں میں ان دس ”بیٹوں جتنی بھی غیرت نہیں۔ آپ قادیانیوں کی یہ بات کیسے سن لیتے ہیں۔ کہ دینا بھر کے مسلمان غلط ہیں اور مرزا ٹھیک ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان کافر ہیں۔ اور مرزائی مسلمان ہیں۔ وہ تمہیں یہ سبق پڑھانے کے لئے تمہاری مجلسوں میں آتے ہیں اور آپ بڑے اطمینان سے ان کی باتیں سن لیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ دنیا کا کوئی عقلمند ایسا نہیں ہوگا جس کی عدالت میں یہ مقدمہ لے جایا جائے اور وہ ایک مجہول النسب کے شخص کے دعوے پردس بیٹوں کے حرامزادے ہونے کا فیصلہ کردے اور ان دس بیٹوں میں کوئی ایسا بے غیرت نہیں ہوگا جو اس مجہول النسب شخص کے دعوے کو سننا بھی گوارا کرے لیکن کیسے تعجب کی بات ہے کہ ہمارے بدھو بھائی قادیانیوں کے اس دعوے کو سن لیتے ہیں۔ اور انہیں ذرا بھی غیرت نہیں آتی۔

میرا اور آپ کا ہر مسلمان کا فرض کیا ہونا چاہیے؟ قادیانیت نے ہمارا رشتہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں۔ حالانکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مانتے ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین جس کو ہم مانتے ہیں‘ وہ تو کفر نہیں ہوسکتا۔ جو شخص ہمیں کافر کہتا ہے، وہ ہمارے دین کو کفر کہتا ہے، وہ ہمارا رشتہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹتا ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ سب ناجائز اولاد ہیں۔

اَب مسلمانوں کی غیرت کا تقاضا کیاہونا چاہیے؟ ہماری غیرت کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک قادیانی بھی زندہ

نہ بچے۔ پکڑپکڑ کر خبیثوں کو ماردیں۔ یہ میں جذباتی بات نہیں کررہا بلکہ حقیقت یہی ہے۔ اسلام کا فتویٰ یہی ہے۔ مرتد اور

 زندیق کے بارے میں اسلام کا قانون یہی ہے۔ مگر یہ داروگیر حکومت کا کام ہے۔ ہم انفرادی طور پر اس پر قادر نہیں۔ اس لئے کم از کم اتنا تو ہونا چاہیے کہ ہم قادیانیوں سے مکمل قطع تعلق کریں۔ ان کو اپنی کسی مجلس میں‘ کسی محفل میں برداشت نہ کریں۔ ہر سطع پر ان کا مقابلہ کریں اور جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچا کرآئیں۔

الحمد للہ ہم نے جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچا دیاہے۔برطانیہ قادیانیوں کی ماں ہے جس نے ان کوجنم دیا۔اب انکا گرو مرزا طاہر اپنی ماں کی گود میں جابیٹھا ہے۔ اور وہاں سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو للکار رہا ہے۔ یورپ، امریکہ، افریقہ کے وہ بھولے بھالے مسلمان جو نہ پوری طرح اسلام کو سمجھتے ہیں نہ انکو قادیانیت کی حقیقت کا علم ہے۔ وہ قادیانیت کو نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے؟ ان کو اہل علم کے پاس بیٹھنے کا بھی موقع نہیں ملتا۔ ہمارے ان بھولے بھالے بھائیوں کو قادیانی‘مرتدبنانے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور وہ اس کا اعلان کررہے ہیں۔ اس کے لئے اربوں کھربوں کے میزانیے بنا رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ”عالمی مجلس ختم نبوت“ نے بھی حضرت ختمی مآب صلی اللہ علیہ وسلم کاجھنڈا پوری دنیا میں بلند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جس طرح پاکستان میں قادیانیوں کی حقیقت کھل چکی ہے‘ اور وہ مسلمانوں سے کاٹے جاچکے ہیں۔ انشاء اللہ العزیز پوری دنیا میں‘ دنیا کے ایک ایک حصے میں قادیانیوں کی قلعی کھل کر رہے گی۔ ایک وقت آئیگا کہ پوری دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے گی کہ مرزائی مسلمان نہیں بلکہ یہ اسلام کے غدار ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غدار ہیں، پوری انسانیت کے غدار ہیں۔۔۔۔۔۔انشاء اللہ پوری دنیا میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلے گی اور آخری فتح محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اورآپؐ کے غلاموں کی ہوگی۔۔۔۔۔۔پاکستان میں بھی یہ لوگ ایک عرصے تک مسلمان کہلاتے رہے۔  محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی قربانیاں رنگ لائیں اور قادیانی ناسور کو جسدِ ملت سے کاٹ کر الگ کردیا گیا۔ انشاء اللہ پوری دنیا میں دیر سویر یہی ہوگا۔ الحمد للہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے عالمی سطع پر کام شروع کردیا ہے۔ میں ہر اس مسلمان سے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا خواستگار ہے، یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ختم نبوت کے جھنڈے کو پورے عالم میں بلند کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے بھرپور تعاون کرے۔ اور تمام قادیانیوں مرزائیوں کے بارے میں ایمانی و دینی غیرت کا مظاہرہ کریں۔۔۔ ہر مسلمان اس سلسلے میں جو قربانیا ں پیش کرسکتا ہے وہ پیش کرے۔

واخردعوانا ان الحمد للہ رب العلمین

Book Options

Author: Molana Muhammad Yusuf Ludhianawi Hafizullah

Leave A Reply