قادیانیوں کے جرم کی پوری وضاحت میں نے آپ حضرات کے سامنے کردی۔ اب مجھے آپ حضرات سے ایک بات کہنی ہے۔ پہلے ایک مثال دوں گا۔ مثال کچھ بھدی سی ہے مگر سمجھانے کے لئے مثال سے کام لیناپڑتا ہے۔
ایک باپ کے دس بیٹے تھے جو اُس کے گھر پیدا ہوئے وہ ساری عمر اُن کو اپنا بیٹا کہتا رہا۔ باپ مرگیا۔ اس کے انتقال کے بعد ایک غیر معروف شخص اٹھا اور یہ دعویٰ کیا کہ میں مرحوم کا صحیح بیٹا ہوں۔ یہ دسوں کے دس لڑکے اس کی ناجائز اولاد ہیں۔
میں یہ مثال فرض کررہا ہوں اور اس سلسلے میں آپ سے دو باتیں پوچھنا چاہتا ہوں۔ ایک یہ کہ دنیا کا کوئی صحیح الدماغ
آدمی اس شخص کے دعوے کو قبول کرے گا۔ یہ غیر معروف مدعی جس نے مرحوم کی زندگی میں کبھی دعویٰ نہیں کیا کہ میں فلاں شخص کا بیٹا ہوں۔ نہ مرحوم نے اپنی زندگی میں کبھی یہ دعویٰ کیا کہ یہ میرابیٹا ہے کیا دنیا کی کوئی عدالت اس شخص کے دعویٰ کو سن کریہ فیصلہ دے گی کہ یہ شخص مرحوم کا حقیقی بیٹا ہے اور باقی دس لڑکے مرحوم کے بیٹے نہیں۔
دوسری بات مجھے آپ سے یہ پوچھنی ہے کہ یہ شخص جو باپ کے دس بیٹوں کو حرامزادہ کہتا ہے وہ ان کو ان کے باپ کی جائز اولاد تسلیم نہیں کرتا، ان دس لڑکوں کا ردعمل اُس شخص کے بارے میں کیا ہوگا؟
ان دونوں باتوں کو ذہن میں رکھ کر سنیے! ہم بحمداللہ! حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اُمتی ہیں۔ آپؐ کے لائے ہوئے پورے دین کو مانتے ہیں۔ الحمدللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کہ روحانی اولاد ہیں یہ بات میں اپنی طرف سے نہیں کہہ رہا بلکہ قرآن کریم کا ارشاد ہے۔
النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنفُسِهِمْ
نبی ﷺ مومنین کے ساتھ تو ان کے نفس (اور ذات) سے بھی زیادہ تعلق رکھتے ہیں
یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی امتی کو اپنی ذات سے اتنا تعلق نہیں جتنا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہر امتی کی
ذات سے تعلق ہے۔
وازوجہ امھاتھم۔ ”اورآپ کی بیویاں ان کی مائیں ہیں“۔۔۔۔۔اور قرأت میں ہے۔ وھوابٌ لھم کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے باپ ہیں، ظاہر بات ہے کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات ہماری مائیں بنیں، چنانچہ ہم سب ان کو ”امہات المومنین“ کہتے ہیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ، اُم المومنین خدیجۃ الکبریٰ، ام المومنین
میمونہ، ام سلمہ رضی اللہ عنہن، ہم تمام ازواج مطہرات کے ساتھ ام المومنین کہتے ہیں۔ تو جب یہ ہماری مائیں ہوئیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے روحانی باپ ہوئے۔۔۔۔۔۔ اولاد میں کوئی ماں باپ کا زیادہ فرمانبردار ہوتا ہے کوئی کم، کوئی زیادہ خدمت گذار ہوتا ہے کوئی کم، کوئی زیادہ ہنرمند ہوتا ہے کوئی کم، کوئی زیادہ سمجھدار اور عقلمند ہوتا ہے کوئی کم۔۔۔۔۔اولاد ساری ایک جیسی نہیں ہوتی۔ ان میں فرق ضرور ہوتا ہے لیکن ساری کی ساری باپ ہی کی اولاد کہلاتی ہے۔تیرہ صدیوں کے مسلمان حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی روحانی اولاد تھی۔ چودھویں صدی کے شروع میں مرزا غلام احمد قادیانی اُٹھ کھڑا ہوا۔ اس نے کہا کہ حضورؐ کی روحانی اولاد صرف میں ہوں۔ باقی سارے مسلمان کافر ہیں۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ پوری امت کے مسلمان حضورؐ کی روحانی اولاد نہیں بلکہ نعوذ باللہ ناجائز اولاد ہیں۔ حرامزادے ہیں۔ مجھے معاف کیجئے! میں مرزا غلام احمد قادیانی کے صاف صاف الفاظ نقل کررہا ہوں۔
ہم پوری دنیا کی مہذب عدالت میں اپنا مقدمہ پیش کرکے کہتے ہیں کہ اگر کسی مجہول النسب کا یہ دعویٰ لائق سماعت نہیں کہ میں مرحوم کا حقیقی بیٹا ہوں۔ باقی دس کے دس بیٹے ناجائز اولاد ہیں۔ تو غلام احمد کا یہ ہذیانی دعویٰ کیونکر لائق سماعت ہے کہ وہ (مجہول النسب ہونے کے باوجود) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہے، اورآنحضرتؐ کی ساری کی ساری اُمت کافر ہے۔ ناجائز اولاد ہے۔۔۔۔۔آخر کس جرم میں پوری امت کا رشتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹ کر ان کو کافر اور ناجائز اولاد قراردیا گیا۔۔۔۔۔ ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پورے دین کو الف سے لیکر یا تک مانتے ہیں۔ ہم نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔ ہم نے کوئی عقیدہ نہیں بدلا۔ عقیدے غلام احمد نے بدلے اور کافر اورحرامزادے پوری امت کو کہا۔
ایک قادیانی سے میری گفتگو ہوئی میں نے اس سے کہا کہ تیرہ صدیوں سے مسلمان چلے آتے تھے۔ مرزا غلام احمد کے دعوے پر ہمارا تمہارا اختلاف ہوا اور چودھویں صدی سے یہ اختلاف شروع ہوا۔ اب میں آپ سے انصاف کی بات کہتا ہوں کہ اگر ہمارے عقیدے تیرہ صدیوں کے مسلمانوں کے مطابق ہیں تو تم ان کو مان لو اور غلام احمد کو چھوڑ دو۔ اور تمہارے عقیدے تیرہ
صدیوں کے مسلمانوں کے مطابق ہیں تو ہم تم کو سچا مان لیں گے۔ لیجئے ہمارا تمہارا اختلاف فوراً ختم ہوسکتا ہے۔ یہ انصاف کی بات ہے اور دونوں فریقوں کے لئے برابر کی بات ہے۔ وہ قادیانی سیالکوٹ کا پنجابی تھا۔میری بات سن کر کہنے لگا کہ ”جی سچی بات ایہہ ہے کہ اسی تاں مرزا صاحب تو ں سوا باقی ساریاں نوں جھوٹے سمجھنے آں“ یعنی ”سچی بات تو یہ ہے کہ ہم تو مرزاصاحب کے سوا باقی سب کو جھوٹا سمجھتے ہیں“ اب آپ سمجھ گئے ہونگے‘ مرزا یہ جھوٹا دعویٰ کرتا ہے کہ صرف میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا روحانی بیٹا ہوں باقی سب مسلمان ناجائز اولاد ہیں اور یہ شخص اپنے آپ کو روحانی بیٹا کہہ کر پوری دنیا کو گمراہ کررہا ہے۔
میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر ان دس بیٹوں کا حرامزادہ ہونا کوئی شخص تسلیم نہیں کرے گا جو اس کے گھر پیدا ہوئے۔ اس کی بیوی سے پیدا ہوئے اور ایک غیر معروف اور مجہول النسب آدمی‘ جس کے بارے میں کچھ پتہ نہیں کہ وہ کسی میراثی کی اولاد ہے‘ اگر وہ آکر ایسا دعویٰ کرے گا تو کوئی اُس کے دعوے کونہیں سُنے گا۔ میں کہتا ہوں کہ کیا آپ لوگوں میں ان دس ”بیٹوں جتنی بھی غیرت نہیں۔ آپ قادیانیوں کی یہ بات کیسے سن لیتے ہیں۔ کہ دینا بھر کے مسلمان غلط ہیں اور مرزا ٹھیک ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان کافر ہیں۔ اور مرزائی مسلمان ہیں۔ وہ تمہیں یہ سبق پڑھانے کے لئے تمہاری مجلسوں میں آتے ہیں اور آپ بڑے اطمینان سے ان کی باتیں سن لیتے ہیں۔ میں کہتا ہوں کہ دنیا کا کوئی عقلمند ایسا نہیں ہوگا جس کی عدالت میں یہ مقدمہ لے جایا جائے اور وہ ایک مجہول النسب کے شخص کے دعوے پردس بیٹوں کے حرامزادے ہونے کا فیصلہ کردے اور ان دس بیٹوں میں کوئی ایسا بے غیرت نہیں ہوگا جو اس مجہول النسب شخص کے دعوے کو سننا بھی گوارا کرے لیکن کیسے تعجب کی بات ہے کہ ہمارے بدھو بھائی قادیانیوں کے اس دعوے کو سن لیتے ہیں۔ اور انہیں ذرا بھی غیرت نہیں آتی۔
میرا اور آپ کا ہر مسلمان کا فرض کیا ہونا چاہیے؟ قادیانیت نے ہمارا رشتہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹنے کی کوشش کی ہے۔ وہ ہمیں کافر کہتے ہیں۔ حالانکہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو مانتے ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین جس کو ہم مانتے ہیں‘ وہ تو کفر نہیں ہوسکتا۔ جو شخص ہمیں کافر کہتا ہے، وہ ہمارے دین کو کفر کہتا ہے، وہ ہمارا رشتہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم سے کاٹتا ہے۔ وہ یہ دعویٰ کرتا ہے کہ یہ سب ناجائز اولاد ہیں۔
اَب مسلمانوں کی غیرت کا تقاضا کیاہونا چاہیے؟ ہماری غیرت کا اصل تقاضا تو یہ ہے کہ دنیا میں ایک قادیانی بھی زندہ
نہ بچے۔ پکڑپکڑ کر خبیثوں کو ماردیں۔ یہ میں جذباتی بات نہیں کررہا بلکہ حقیقت یہی ہے۔ اسلام کا فتویٰ یہی ہے۔ مرتد اور
زندیق کے بارے میں اسلام کا قانون یہی ہے۔ مگر یہ داروگیر حکومت کا کام ہے۔ ہم انفرادی طور پر اس پر قادر نہیں۔ اس لئے کم از کم اتنا تو ہونا چاہیے کہ ہم قادیانیوں سے مکمل قطع تعلق کریں۔ ان کو اپنی کسی مجلس میں‘ کسی محفل میں برداشت نہ کریں۔ ہر سطع پر ان کا مقابلہ کریں اور جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچا کرآئیں۔
الحمد للہ ہم نے جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر تک پہنچا دیاہے۔برطانیہ قادیانیوں کی ماں ہے جس نے ان کوجنم دیا۔اب انکا گرو مرزا طاہر اپنی ماں کی گود میں جابیٹھا ہے۔ اور وہاں سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو للکار رہا ہے۔ یورپ، امریکہ، افریقہ کے وہ بھولے بھالے مسلمان جو نہ پوری طرح اسلام کو سمجھتے ہیں نہ انکو قادیانیت کی حقیقت کا علم ہے۔ وہ قادیانیت کو نہیں جانتے کہ وہ کیا ہے؟ ان کو اہل علم کے پاس بیٹھنے کا بھی موقع نہیں ملتا۔ ہمارے ان بھولے بھالے بھائیوں کو قادیانی‘مرتدبنانے کا فیصلہ کرچکے ہیں اور وہ اس کا اعلان کررہے ہیں۔ اس کے لئے اربوں کھربوں کے میزانیے بنا رہے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ”عالمی مجلس ختم نبوت“ نے بھی حضرت ختمی مآب صلی اللہ علیہ وسلم کاجھنڈا پوری دنیا میں بلند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ جس طرح پاکستان میں قادیانیوں کی حقیقت کھل چکی ہے‘ اور وہ مسلمانوں سے کاٹے جاچکے ہیں۔ انشاء اللہ العزیز پوری دنیا میں‘ دنیا کے ایک ایک حصے میں قادیانیوں کی قلعی کھل کر رہے گی۔ ایک وقت آئیگا کہ پوری دنیا اس حقیقت کو تسلیم کرے گی کہ مرزائی مسلمان نہیں بلکہ یہ اسلام کے غدار ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غدار ہیں، پوری انسانیت کے غدار ہیں۔۔۔۔۔۔انشاء اللہ پوری دنیا میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلے گی اور آخری فتح محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی اورآپؐ کے غلاموں کی ہوگی۔۔۔۔۔۔پاکستان میں بھی یہ لوگ ایک عرصے تک مسلمان کہلاتے رہے۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کی قربانیاں رنگ لائیں اور قادیانی ناسور کو جسدِ ملت سے کاٹ کر الگ کردیا گیا۔ انشاء اللہ پوری دنیا میں دیر سویر یہی ہوگا۔ الحمد للہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے عالمی سطع پر کام شروع کردیا ہے۔ میں ہر اس مسلمان سے جو محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کا خواستگار ہے، یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ ختم نبوت کے جھنڈے کو پورے عالم میں بلند کرنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے بھرپور تعاون کرے۔ اور تمام قادیانیوں مرزائیوں کے بارے میں ایمانی و دینی غیرت کا مظاہرہ کریں۔۔۔ ہر مسلمان اس سلسلے میں جو قربانیا ں پیش کرسکتا ہے وہ پیش کرے۔
واخردعوانا ان الحمد للہ رب العلمین